
قارئین ہیر اور رانجھا اگر اس دور میں زندہ ہوتے تو ان کے ملنے کے کئی محفوظ مقامات تھے گلبرگ کے ریسٹورنٹ، شالیمار گارڈن، کالجوں اور یو نیورسٹیوں کے ہاسٹلز اور آج کاکیدو کیوںکہ ان کی کار بہت دور جا چکی ہوتی انہیں ڈھو نڈنے میں ناکامی کا منہ دیکھتا۔
وہ قدیم ہیر تھی، قدروں کی امین ہیر پرانی ڈگر پر چلنے والی،اس دور کی ہیرت ماڈرن، ہیر ؤن کی طرح نئی فلم کے ساتھ نیا ہیرو، ہر صبح کے ساتھ نیا عاشق، ہر شام نیا مقام۔
آج کل یہ نہیں تو کوئی اور سہی
پشاور نہیں تو لاہور سہی
ہیر ایک دیہاتی لڑکی تھی۔ ہیر نئی نئی شہر میں آئی تھی اور ابھی اردو زبان سے واقفیت بھی نہ ہوئی تھی لہذا دیہاتی انداز میں رانجھے سے مخاطب ہو کر کہہ رہی ہے کہ
آج پتلون دے سامنے رانجھا اے
تیری لنگی دی پھبدی چال ہی نئیں
وائلن نال جو ڈانس دا مزہ آوے
تیری ونجلی دے وچ او تان ہی نئیں
نہ تو مالی ڈرائیور نہ کک چنگا
تیرے کول کوئی کسب کمال ای نئیں
تینوں اسی کھڈاوا ای رکھ لیندے
سادے کول کوئی نکڑا بال ای نئیں
0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔