افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
میں یہ جانتا ہوں کہ کوئی بھی قوم اپنے وطن عزیز کی تعمیر و ترقی سے صرفِ نطر نہہیں کر سکتی۔ہر قوم اپنے ملک کو چار چاند لگانے کے لئے وہ اقدام کرتی ہے جو اس کے بس میں ہوتے ہیں۔
ہم اپنے وطن عزیز کی خوشحالی کے لئے اور اس کے استحکام سے کیسے غافل رہ سکتے ہیں؟کہ جو کامل نظرئیے کی بناء پر معرض وجود میں آیا اور جس میں ہمارا ہر سانس آزادی کا سانس ہے ہماری ہر دھڑکن آزاد دھڑکن۔
خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا
بر صغیر کی تاریخ اس واقعہ کی چشم دید گواہ ہے کہ مسلمان سر تا پا کفن میں لپٹ کر مقصد عظیم لے کر میدان عمل میں آئے۔ اس جرم کی پاداش میں انہوں نے ایسی تکالیف اٹھائیں کہ انسانی آنکھیں اسے دیکھ کر اپنی بینائی کھو بیٹھیں۔ اسلام کے شیدا ئیوں نے اپنے جوان بیٹوں، نو عمر بیٹیوں اور معصوم چہروں کو اپنے سامنے خون کے سمندر میں نہاتے دیکھا۔ انہوں نے ہر ایسی چیز قربان کر دی جو مقصد کی راہ میں حائل نظر آئی، اور ینہوں نے اپنے بدن کا آخری قطرہ تک نچوڑ دیا، اس ملک کی آبیاری کے لئے اس پاک دھرتی کے حصول کے لئے، کہ جہاں آزادی کو ایک مجزوب کی بڑ اور دیوانے کا خواب تصور کیا۔ہندو قوم کے سب سے بڑے راہنما مہاتما گاندھی اس کو نا ممکن خیال کرتے تھے اور بڑے بڑے دعوے کے ساتھ اسے رد کرتے۔ انہوں نے تو یہاں تک کہ دیا تھا
"ہندوستان کے ٹکڑے کرنے سے پہلے میرے اپنے جسم کے ٹکڑے کر دو"
پھر چشم زدن میں اس خیال کو کس نے ریزہ ریزہ کیا۔ ہندو کے مہاتما کے خواب کا طلسم کس طرح ٹوٹا۔ ناہونی کو ہونی ، نا ممکن کو ممکن کس نے کیا۔ اس مشکل کو آسان بنانے میں کس کا ہاتھ کار فرما تھا، اور یہ الگ وطن کو حاصل کرنے کا جزبہ کن کے سینوں میں آگ کی طرح بھڑک رہا تھا۔ یہ سب نوجوان اور با ہمت طلباء کے عزم واضح۔ یقین محکم اور عمل پیہم نے کیا بزرگوں کی کو ششوں اور دعائوں کے ساتھ ہوا۔

0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔